پائی ہے اُجالوں کی سند غارِ حرا سے

پائی ہے اُجالوں کی سند غارِ حرا سے
ہم دیپ جلاتے ہیں مدینے کی ہوا سے

انوار بداماں ہوئی کس کے کفِ پا سے
یہ بات کوئی پوچھے ستاروں کی رِدا سے

اُن کو بھی اماں دی ہے کہ جو تھے خون کے پیاسے
رحمت ہی برستی رہی رحمت کی گھٹا سے

ٹوٹے گا نہ مدحت کے چراغوں کا تسلسل
لو ہم نے لگا رکھی ہے محبوبِؐ خدا سے

اے ہمسفرو! رخ ہے میرا سوئے مدینہ
دنیا میں کوئی جائے کہیں میری بلا سے

پھولوں کو مہک کس کے پسینے سے ملی ہے
روشن مہ و انجم ہیں یہ کس کے کفِ پا سے

وہ پیشِ نظر جن کے حیاتِ ابدی ہے
وہ لوگ تو مر جاتے ہیں پہلے ہی قضا سے

آیا تھا جہالت کے سفینوں کو ڈبونے
وہ علم کا سیلاب چلا تھا جو حرا سے

کام آیا نہ آقاؐ کے سوا حشر میں کوئی
دنیا نے ہر اِک گام دیے مجھ کو دلاسے

اعجازؔ تصور میں ہے گلزارِ مدینہ
نسبت مجھے خوشبو سے، تعلق ہے ضیا سے