ذکرِ سرکار دو عالمؐ سے ہیں لب آراستہ

ذکرِ سرکار دو عالمؐ سے ہیں لب آراستہ
میرا دن آراستہ ہے میری شب آراستہ

آمنہؓ کی گود میں تشریف لے آئے حضورؐ
بزمِ عالم کو کیا خالق نے جب آراستہ

آپؐ آئے ہو گئی دنیا تمدّن آشنا
کوئی شے ہوتی نہیں ہے بے سبب آراستہ

میرے گھر کی رونقیں ہیں مصطفیؐ کے ذکر سے
حسبِ منشا اپنا گھر رکھتے ہیں سب آراستہ

رفتہ رفتہ اُن کے جلوے منتقل ہوتے گئے
ہوتے ہوتے ہو گئی بزمِ طرب آراستہ

کیا دُعا تھی گنبدِ خضرا کے سائے میں دعا
ہیں اُسی دن سے مرے دستِ طلب آراستہ

لازم و ملزوم ہے ہر شخص پر پڑھنا درود
جب کہیں ہو محفلِ شاہؐ عرب آراستہ

نعتِ سرکارؐ دو عالم کیا پڑھی اعجازؔ نے
ہو گیا ہے بے ادب ماحول، ادب آراستہ