اِک عمر سے ہوں خاک بسر رحمتِ عالمؐ

اِک عمر سے ہوں خاک بسر رحمتِ عالمؐ
مجھ پر بھی ہو رحمت کی نظر رحمتِ عالمؐ

آتے نہ اگر آپؐ اندھیرے نہیں جاتے
ہوتی نہ شبِ غم کی سحر رحمتِ عالمؐ

آدمؑ سے چلے آئیے تا حضرتِ عیسیٰؑ
رحمت ہیں نبی سارے مگر رحمتِ عالمؐ

حیران ہے تاریخ کہ طے کیسے کیا تھا
اِک رات میں صدیوں کا سفر رحمتِ عالمؐ

جبریلؑ کے پر رہتے سلامت شبِ اَسریٰ
ہوتے نہ کہیں ساتھ اگر رحمتِ عالمؐ

یہ آپ کا صدقہ ہے جو دُنیا میں ہے جاری
تہذیب و تمدّن کا سفر رحمتِ عالمؐ

یہ علم کی دولت بھی ہمیں آپؐ نے دی ہے
بخشا ہمیں جینے کا ہنر رحمتِ عالمؐ

تخصیص نہیں کوئی جہاں شاہ و گدا کی
وہ در ہے فقط آپ کا در رحمتِ عالمؐ

مٹّی سے حضور آپ کو تھی کتنی محبت
گھر آپ کا مٹّی کا تھا گھر رحمتِ عالمؐ

مداحوں میں سرکارؐ اِک اعجازؔ بھی ہوگا
محشر میں مری رکھنا خبر رحمتِ عالمؐ