گوشِ عمل سے سنیے ہر آن بولتا ہے

گوشِ عمل سے سنیے ہر آن بولتا ہے
کردارِ مصطفیؐ میں قرآن بولتا ہے

ہوتی نہیں زُباں کو اظہار کی ضرورت
دربارِ مصطفیؐ میں ایمان بولتا ہے

بے بس وہی مسیحا ٹوٹے ہوئے دلوں کا
مٹھی میں جس کی پتھر بے جان بولتا ہے

ترسیل ہو رہی ہے قرآن کی حرا میں
اللہ کی طرف سے انسان بولتا ہے

آنسو سنا رہے ہیں رودادِ راہِ طیبہ
خاموش ہے مسافر سامان بولتا ہے

طیبہ کو جانے والے پتوار ہوں میں تیری
یہ بات مجھ سے آکر طوفان بولتا ہے

اُمت کی گفتگو ہے سرکارؐ کی زباں پر
خواہش پہ میزباں کی مہمان بولتا ہے

محبوبؐ کبریا کا لکھتا ہوں جب قصیدہ
ہر شعر میں شعورِ حسّانؓ بولتا ہے

سب نعت لکھنے والے اعجازؔ محترم ہیں
یہ بات مجھ سے میرا وِجدان بولتا ہے