سرکارؐ کی رحمت کا طلبگار ہوں میں بھی

سرکارؐ کی رحمت کا طلبگار ہوں میں بھی
احساسِ ندامت میں گرفتار ہوں میں بھی

مجھ پر بھی کرم گنبدِ خضرا کے مکیں ہو
ٹوٹی ہوئی حالات کی دیوار ہوں میں بھی

میرا بھی بھرم رکھیں مجھے مان بڑا ہے
اِک آپ کی امت میں گنہگار ہوں میں بھی

کتنی ادب آموز مدینے کی زمیں ہے
دیوانہ بھی کہتا ہے کہ ہشیار ہوں میں بھی

گنجائشِ دامانِ نظر کم ہے بہت کم
سرکار مگر طالبِ دیدار ہوں میں بھی

سیرت کی ہو خیرات عطا مجھ کو بھی سرکارؐ
یہ کہہ تو سکوں صاحبِ کردار ہوں میں بھی

بے بس ہیں زمانے کے مسیحا مرے آگے
اچھا ہوں کہ اِک آپ کا بیمار ہوں میں بھی

مجھ کو بھی ہو سرکارؐ کبھی اِذنِ حضوری
اِتنی سی نوازِش کا تو حقدار ہوں میں بھی

اعجازؔ یہ اعزاز کوئی کم تو نہیں ہے
شاعر ہوں غلامِ شہہِ ابرارؐ ہوں میں بھی