حبِّ نبیؐ کو دل میں مہمان کر لیا ہے

حبِّ نبیؐ کو دل میں مہمان کر لیا ہے
بخشش کا اپنی ہم نے سامان کر لیا ہے

اپنا لیا ہے جس نے سیرت کو مصطفیؐ کی
دشوار راستوں کو آسان کر لیا ہے

خیر البشرؐ کو جس نے اپنا حکَم بنایا
سر اُس نے زندگی کا میدان کر لیا ہے

دل میں بسا لیا ہے اُس نے حبیبِؐ رب کو
وہ شخص حفظ جس نے قرآن کر لیا ہے

مانی نہ بات جس سے سرکارِ دو جہاں کی
اس شخص نے خود اپنا نقصان کر لیا ہے

قرآن کی صدا سے محروم بام و در ہیں
ہم نے خود اپنے گھر کو ویران کر لیا ہے

تکمیل پا گئی ہے تاریخِ بزمِ اِمکاں
اِسمِ محمدیؐ کو عنوان کر لیا ہے

وہ حوصلہ ملا ہے دنیا کے حادثوں سے
مضبوط اور ہم نے ایمان کر لیا ہے

سرکارِؐ دو جہاں کے نقش قدم پہ چل کر
بیکار زندگی کو ذیشان کر لیا ہے

مدحِ رسولؐ اکرم اعجازؔ ہم نے لکھ کر
نعتوں کا ایک مکمل دیوان کر لیا ہے