جب شہر میں رسمِ شہہِ ابرارؐ چلے گی

جب شہر میں رسمِ شہہِ ابرارؐ چلے گی
خنجر کوئی نکلے گا نہ تلوار چلے گی

آئے گا وہ دِن اُسوۂ سرکار کے صدقے
جب ساتھ مرے وقت کی رفتار چلے گی

کھل جائیں گے سوئے ہوئے ذہنوں کے دریچے
جب گفتگوئے سیدِ ابرارؐ چلے گی

خورشیدِ رسالت کی طرف میرا سفر ہے
پھر ساتھ مرے کیسے شبِ تار چلے گی

فرما دیا سرکارؐ نے دنیا ہو کہ محشر
دونوں ہی جگہ عظمتِ کردار چلے گی

طیبہ کا مسافر ہوں تو یہ خواہشِ دنیا
اب ساتھ چلے گی بھی تو بیکار چلے گی

ہو جائیں گے طے آنکھوں ہی آنکھوں میں مراحل
جب لے کے مجھے حسرتِ دیدار چلے گی

جب ذکر کیا جائے گا محبوبِؐ خدا کا
افکار کی اِک رَو پسِ افکار چلے گی

کچھ اور بجز اذنِ حضوری نہیں درکار
اِتنی تو گزارِش مرے سرکارؐ چلے گی

اعجازؔ کرم کی تو ہے اِک بوند ہی کافی
کوثر کی یہ تھوڑی سی بھی مقدار چلے گی