مدحد کے گلابوں کا کرم ہو کے رہے گا

مدحت کے گلابوں کا کرم ہو کے رہے گا
یہ گھر مرا گلزارِ اِرم ہو کے رہے گا

میرا ہے یہ ایماں کہ سرِ عرصۂ محشر
مجھ پر مرے آقاؐ کا کرم ہو کے رہے گا

ٹھہروں گا کبھی میں بھی مدینے کا مسافر
آباد مرے دل کا حرم ہو کے رہے گا

پیغام دیا ہے یہ مدینے کی ہوا نے
اب سرد مرا شعلۂ غم ہو کے رہے

تعلیمِ محمدؐ کے اُجالوں کی بدولت
برباد ہر اِک شہرِ ستم ہو کے رہے گا

جب اُسوۂ سرکارؐ پہ ہم لوگ چلیں گے
خورشید ہر اِک نقشِ قدم ہو کے رہے گا

یادِ شہہِ کونین میں نکلے گا جو آنسو
رحمت کے سمندر میں وہ ضم ہو کے رہے گا

ًًفہرستِ محبّانِ محمدؐ میں یقینا
اِک روز مرا نام رقم ہو کے رہے گا

پاس اشکِ ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
قائم مرا محشر میں بھرم ہو کے رہے گا

اعجازؔ سلامت ہے مری نعت نگاری
حاصل مجھے اعزازِ قلم ہو کے رہے گا