ناداروں کو علم کے موتی ، آقاؐ نے انمول دیے

ناداروں کو علم کے موتی، آقاؐ نے انمول دیے
بابِ جہالت بند کیا اور ذہنوں کے در کھول دیے

انگاروں کو پھول بنایا، ذرّوں کو خورشید کیا
جن ہونٹوں میں زہر بھرا تھا، اُن کو میٹھے بول دیے

آپ کی قربت نے لوگوں کو، ایک نیا احساس دیا
جتنے چاہنے والے تھے، کردار انہیں بے جھول دیے

میرے آقا آپؐ نے اُن کو درس دیا ہے محنت کا
دُنیا کے لوگوں نے جن کے ہاتھوں میں کشکول دیے

آپؐ نے اپنے حسنِ عمل سے سچ کی جوت جگائی ہے
کفر کی تیز ہوا سے ہوں گے کیسے ڈانوں ڈول دیے

آپ سے بڑھ کر انسانوں کا اور کوئی ہمدرد نہیں
سنگ زنوں کو سنگ کے بدلے پیار کے موتی تول دیے

مدحت کا ٹوٹا نہ تسلسل گنبدِ سبز کے سائے میں
ساتھ زباں نے چھوڑ دیا تو آنکھ نے موتی رول دیے

بے کیفی کے موسم میں اِک کیف ہوا طاری اعجازؔ
نغمۂ نعتِ سرورِ دیں نے رنگ فضا میں گھول دیے