ذکرِ خدا کے جب ہوئے روشن کہیں چراغ

ذکرِ خدا کے جب ہوئے روشن کہیں چراغ
پھیلا وہ نور بن گئی ساری زمیں چراغ

ظلمت کا سدِّ باب کیا تو نے نور سے
روشن کہیں ہیں چاند، ستارے کہیں چراغ

تو نے رسولؐ بھیجے ہدایت کے واسطے
جلتے نہیں ہیں خود کبھی اپنے تئیں چراغ

قندیلِ عرش سے جو ہوا نور منتقل
روشن ہوئے زمین پہ مہر آفریں چراغ

تجھ سے جو لو لگائے ہیں اے ربِّ کائنات
اب تک وہ دسترس میں ہوا کی نہیں چراغ

جب بھی کسی کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے
ظلمت میں تو نے کر دیے روشن وہیں چراغ

بخشی ہے تو نے فکر و نظر کو وہ روشنی
تا حشر اب جلائیں گے اہلِ یقیں چراغ

سیلاب رنگ و نور کا ہوتا ہے تا فلک
جب حمد کے جلاتے ہیں اہلِ زمیں چراغ

اعجازؔ میری راہ نہ روکیں کی ظلمتیں
سجدوں کا ہے نشان برائے جبیں چراغ