بغیرِ سرورِ کونین کچھ حاصل نہیں ہوتا

بغیرِ سرورِ کونین کچھ حاصل نہیں ہوتا
ستارہ لاکھ روشن ہو مہِ کامل نہیں ہوتا

جو سرکارِؐ مدینہ کا کرم شامل نہیں ہوتا
ہمیں قربِ خداوندی کبھی حاصل نہیں ہوتا

ثباتِ نقشِ پائے مصطفیٰؐ پر جن کی نظریں ہیں
گزرنا راہِ مشکل سے انہیں مشکل نہیں ہوتا

یہاں پھیلے ہوئے ہیں ہر طرف سائے محبت کے
نبیؐ کے شہر میں فتنہ کوئی داخل نہیں ہوتا

یہ دنیا بہرہ ور ہوتی جو تعلیمِ محمدؐ سے
کوئی ظالم نہیں ہوتا کوئی قاتل نہیں ہوتا

مدینے کے مسافر کو ذرا پتوار تو دینا
سفینہ کس طرح آسودۂ ساحل نہیں ہوتا

اُجالے کے مقابل تیرگی ٹھہرے تو کیا ٹھہرے
جہاں ہوتا ہے دینِ حق وہاں باطل نہیں ہوتا

شعورِ زندگی بخشا ہے جس کو سرورِؐ دیں نے
فرائض سے کسی عالم میں وہ غافل نہیں ہوتا

یہ سب اعجاز ہے اعجازؔ تعلیمِ محمدؐ کا
کوئی انساں دنیا میں کسی قابل نہیں ہوتا