اے سرورِ شاہِ اُمم آپؐ نے رکھا

اے سرورِ شاہِ اُمم آپؐ نے رکھا
انسان کی عظمت کا بھرم آپ نے رکھا

پروردۂ نفرت کو دیا درسِ محبت
آپس میں قبیلوں کو بہم آپؐ نے رکھا

ہے ذہنِ بشر جس کے اُجالے سے منّور
وہ دیپ سرِ طاقِ حرم آپؐ نے رکھا

سورج کی طرح اِس کا مقدر چمک اٹھا
اِس خاک پہ جس روز قدم آپؐ نے رکھا

ہم جیسے گناہگاروں سے بھی اتنی محبت
آنکھوں کو ہمارے لیے نم آپ نے رکھا

اپنوں نے ستایا مجھے، غیروں نے ستایا
اور سر پہ مرے دست کرم آپؐ نے رکھا

مشکل سے ہمیں آپؐ کی سیرت نے نکالا
غم میں ہمیں بیگانۂ غم آپؐ نے رکھا

پڑھتے تھے ملک عظمتِ انساں کا قصیدہ
جس وقت سرِ عرش قدم آپؐ نے رکھا

مدحت کے لیے آپ کی الفاظ کہاں تھے
اعجازؔ بیانی کا بھرم آپؐ نے رکھا