اُن ہی کے واسطے دنیا بھی رشکِ جنت ہے

اُن ہی کے واسطے دنیا بھی رشکِ جنت ہے
وہ جن کو سرورِ کونینؐ سے محبت ہے

یہ سر بلند جو دنیا میں آدمیت ہے
حضورؐ آپ کی صرف آپ کی بدولت ہے

نہ تیر کی ہے نہ تلوار کی ضرورت ہے
کہ مسئلوں کا تدارک نبیؐ کی سیرت ہے

کسی بھی مصحفِ دنیا کی کیا ضرورت ہے
ہمارے سامنے آئینہ شریعت ہے

محیطِ بزمِ دو عالم ہے آپؐ کی ہستی
ازل سے تا بہ ابد آپؐ کی رسالت ہے

مرے خیال پہ چھایا ہوا ہے شہرِ نبیؐ
وہ جتنے دور ہیں اتنی ہی اُن سے قربت ہے

حضورؐ آپ کی ہر دور کو ضرورت تھی
حضورؐ آپ کی ہر دور کو ضرورت ہے

وہ فتح مکہ ہو، طائف ہو، بدر ہو کہ اُحد
دُعا حضورؐ کے ہونٹوں پہ حسبِ عادت ہے

حضورؐ آپ نے بدلا ہے سوچ کا معیار
شعور و فکر کی دولت عظیم دولت ہے

اٹھائے دھوپ سے فیض اور گریز سورج سے
وہ دیدہ ور ہے مگر کتنا بے بصیرت ہے

حضورؐ نے یہ عمل سے بتا دیا ہم کو
کہ عظمتوں کا سبب آدمی کی محنت ہے

وہ آدمی بھی خدا کے حبیبؐ کا ہے حبیب
کہ جس کا کام ہی اِنسانیت کی خدمت ہے

رُخِ نبیؐ پہ جو صدیقؓ کے گرے آنسو
اُن آنسوؤں کی دو عا لم سے بڑھ کے قیمت ہے

جہاں میں اور بہت سے ہیں حکمراں لیکن
دلوں پہ صرف حضورؐ آپ کی حکومت ہے

تقاضہ یہ بھی ہے حبِّ رسولؐ کا ا عجازؔ
جو نعت کہنے میں گزرے وہ دم غنیمت ہے