ظلم کے ایواں کانپ رہے ہیں کفر کی دنیا برہم ہے

ظلم کے ایواں کانپ رہے ہیں کفر کی دنیا برہم ہے
فرشِ زمیں سے عرشِ بریں تک ذکرِ رسولِ اکرمؐ ہے

صدیوں سے میں سوچ رہا ہوں پر یہ معمہ حل نہ ہوا
کیا ہوگی وہ ذات کہ جس کا نام بھی اسمِ اعظم ہے

دنیا کے سب رشتے ناتے شیشے سے بھی نازک ہے
شاہِ اُمم کا اِک رشتہ سب رشتوں سے مستحکم ہے

لاکھ سمندر گم ہیں اُس کی رحمت کے اِک قطرے میں
دیکھ کے جس کی دریا دلی کو دریا بھی تو شبنم ہے

گلشن گلشن صحرا صحرا دھوم ہے کس کی آمد کی
جھوم رہی ہے بستی بستی مہکا ہوا ہر عالم ہے

تشنہ لبو! مایوس نہ ہونا تشنہ لبی مٹ جائے گی
باغِ جناں میں چشمۂ کوثر فرشِ زمیں پر زم زم ہے

ماہِ ربیع الاوّل آیا رنگ بکھیرے قدرت نے
جگمگ جگمگ ارض و سما ہیں نور کی بارش پیہم ہے

ذکر یہ کس کی زلف کا آیا خوشبو جاگی ذہنوں میں
کس کا نام زباں پہ آیا روح پہ وجد کا عالم ہے

دُنیا کے اعجازؔ حوادِث اُس کے پاس نہ آئیں گے
صلی اللہ علیہ وسلم جس کی زباں پر ہر دم ہے