ہاتھ میں جب سے ان کا دامن ہے

ہاتھ میں جب سے ان کا دامن ہے
کوئی غم ہے نہ کوئی الجھن ہے

مصطفیٰؐ نے جسے جلایا تھا
آج بھی وہ چراغ روشن ہے

جو بتایا ہے مصطفیٰؐ نے ہمیں
وہ طریقہ ہی سب سے احسن ہے

جتنا اُن کا کرم زیادہ ہے
تنگ اتنا ہی اپنا دامن ہے

اسوۂ مصطفیٰؐ بتائے گا
کون ہے دوست کون دشمن ہے

جس کو شہرِ رسولؐ کہتے ہیں
رحمتوں کا وہی تو مسکن ہے

جس میں کانٹا نہ ہو برائی کا
مصطفیٰؐ کا وہی تو گلشن ہے

وہ مدینے مجھے بلائیں گے
بے سبب کب یہ دل کی دھڑکن ہے