جب دُور نگاہوں سے وہ کعبۂ جاں ٹھہرے

جب دُور نگاہوں سے وہ کعبۂ جاں ٹھہرے
کیسے مرے اشکوں کا پھر سیلِ رواں ٹھہرے

سرکارِؐ دو عالم نے یہ بات بتائی ہے
لب تک نہ وہ بات آئے جو بات گراں ٹھہرے

وہ وجہِ دو عالم ہیں وہ رحمتِ عالم ہیں
سائے میں ہے اُن کے ہی انساں جہاں ٹھہرے

دنیا کی کوئی مشکل اب روک نہ پائے گی
طیبہ کا مسافر ہے کیوں قبلِ جناں ٹھہرے

دیوانوں کی منزل تو گلزارِ مدینہ ہے
اب گھر میں بہار آئے یا گھر میں خزاں ٹھہرے

قرآنِ مبیں جس کی ہر بات کا شاہد ہو
ذکر اُس کی بڑائی کا معراجِ زباں ٹھہرے

انسان کی عظمت کا آغاز وہیں سے ہے
معراج کی منزل میں جبریلؑ جہاں ٹھہرے

اعجازؔ گزرتے ہیں آرام سے دن اپنے
گر ہو نہ کرم اُن کا اِک پل بھی گراں ٹھہرے