ہیں کون و مکاں صدقۂ سرکار ِؐ دو عالم

ہیں کون و مکاں صدقۂ سرکارِؐ دو عالم
کم ہو نہیں سکتا کبھی معیارِ دو عالم

خالق نے بنایا جنہیں مختارِ دو عالم
پھر کیوں نہ کہیں ہم انہیں سرکارِ دو عالم

چھیڑوں گا اگر میں شبِ اسریٰ کی حکایت
لوگو ابھی رک جائے گی رفتارِ دو عالم

یہ حوصلہ جز سرورِ دیں اور ہے کس کا
خوش ہو کے اُٹھا لے جو غمِ بارِ دو عالم

انکار محمدؐ کا ہر اِک شے کی ہے نفی
اقرار محمدؐ کا ہے اقرارِ دو عالم

کہتے ہیں اُسی ذاتِ گرامی کو محمدؐ
اللہ نے سونپا ہے جسے کارِ دو عالم

سرکار کی رحمت جو ہو اِک پل کو گریزاں
ہو جائے ابھی خاک یہ گلزارِ دو عالم

خورشید و قمر نقشِ کفِ پا ہیں اُسی کے
جو ذات ہے مجموعۂ انوارِ دو عالم

تعلیم محمدؐ کی اگر عام نہ ہوتی
کھلتا نہ کبھی عقدۂ اسرارِ دو عالم

اعجازؔ قسم کھائی ہے جس ذات کی رب نے
ہے سر پہ اُسی شخص کے دستارِ دو عالم