درِ خیر الوریٰ تک آگیا ہوں

درِ خیر الوریٰ تک آگیا ہوں
اندھیرے سے ضیا تک آگیا ہوں

دکھاتا ہے جو سیدھی راہ سب کو
میں ایسے رہنما تک آگیا ہوں

خدا رکھے مرا حسنِ تصوّر
جمال مصطفیٰؐ تک آگیا ہوں

بھٹکنے کا کوئی امکاں نہیں ہے
نبیؐ کے نقشِ پا تک آگیا ہوں

بجز طیبہ قرار جاں کہاں ہے
دیار مصطفیٰؐ تک آ گیا ہوں

وہ جس سے درد سب کہتے ہیں اپنا
اسی درد آشنا تک آ گیا ہوں

خدا سے اب کوئی دوری نہیں ہے
حبیبؐ کبریا تک آ گیا ہوں

ثنائے مصطفیٰؐ میں کرتے کرتے
حدِ روز جزا تک آگیا ہوں

جہاں سے آفتابِ نور نکلا
میں اُس غارِ حرا تک آگیا ہوں

صبا ممنون ہے اعجازؔ جس کی
میں اُس جانِ صبا تک آگیا ہوں