گزر شعلوں پہ ہو یا چاند یارو! زیرِ پا آئے

گزر شعلوں پہ ہو یا چاند یارو! زیرِ پا آئے
کوئی عالم بھی ہو لب پر محمدؐ کی ثنا آئے

زباں پر سرور کونینؐ کا جب تذکرہ آئے
اُجالا زندگی پائے اندھیرے کو قضا آئے

خدا کو رحم آخر آ گیا ظلمت نشینوں پر
زمیں پر عرش کے جلوے بشکلِ مصطفیٰؐ آئے

مدینہ مرکزِ تقسیمِ نعمت ہے زمانے میں
جسے درکار ہو جنت مدینے میں چلا آئے

سوائے سرورِ عالمؐ یہ سیرت اور کس کی ہے
زمانہ سنگ برسائے مگر لب پر دُعا آئے

خوشی کو دل ترستا تھا ہنسی کو لب ترستے تھے
مسرت ساز لمحے ساتھ لے کر مصطفیٰؐ آئے

اگر سرکارؐ کے اخلاق پر انساں عمل کر لے
جہنم زار دنیا میں بہارِ جانفرا آئے

کوئی بھی ان کی عظمت کا احاطہ کر نہیں سکتا
زمانہ محوِ حیرت ہے سمجھ میں کس کی کیا آئے

نظامِ مصطفیٰؐ اعجازؔ ہو جائے اگر نافذ
تو پھر دنیا میں انسانوں کو جینے کا مزا آئے