جدا ہو کر نبیؐ کے سایۂ دامانِ رحمت سے

جدا ہو کر نبیؐ کے سایۂ دامانِ رحمت سے
گزرنا پڑ رہا ہے آدمی کو کس اذیت سے

یہ دنیا تھی مگر واقف نہ تھی آئینِ فطرت سے
دلوں کو آپؐ نے تسخیر فرمایا محبت سے

اگر مل جائے اِک قطرہ مجھے دریائے رحمت سے
سمندر دیکھنا محروم ہو جائے گا وسعت سے

اِسی باعث وہ بن کر رحمتہُ للعالمیںؐ آئے
دو عالم میں کوئی محروم رہ جائے نہ رحمت سے

چراغِ علم و حکمت کر دیا سرکارؐ نے روشن
نجات اہلِ جہاں کو مل گئی دورِ جہالت سے

سکھایا ہے یہی اخلاق سرکارِ دو عالمؐ نے
اگر دشمن بھی مل جائے تو پیش آؤ شرافت سے

بتایا آپؐ نے اللہ اور بندے کے رشتے کو
بغاوت کر رہا تھا آدمی قانونِ قدرت سے

بفیضِ سرورِ عالمؐ ہر ِاک بھٹکا ہوا اِنساں
خرد کی وادیوں میں آگیا صحرائے وحشت سے

بہاریں آپؐ سے پہلے بھی آتی تھیں گلستاں میں
مگر محروم تھی پھولوں کی دنیا رنگ و نکہت سے

مہ و انجم بھی اُن سے آج کسبِ نور کرتے ہیں
وہ ذرّے ہو گئے جو منسلک مہرِ رسالت سے

رسولؐ اللہ کے نقشِ قدم نے رہنمائی کی
نکل آیا ہے باہر آدمی کوئے ملامت سے

یہاں نفرت کے انگارے تھے اور کانٹے برائی کے
یہ دنیا رشکِ گلشن ہو گئی بارانِ رحمت سے

محبت میں نبیؐ کی جب عمل کا تذکرہ آیا
چھلک کر گر پڑے آنسو مری چشمِ ندامت سے

بتا دیتی ہے دل کا حال خود چہرے کی تابانی
پلٹ کر جو بھی آتا ہے دیارِ رنگ و نکہت سے

زبانی تو بہت اعجازؔ دعویٰ ہے محبت کا
مگر خادم نبیؐ کے ہم نہ صورت سے نہ سیرت سے