یہ جو انسان کی بڑائی ہے

یہ جو انسان کی بڑائی ہے
صدقہ خلقِ مصطفائی ہے

مصطفیٰؐ سے جو لو لگائی ہے
روشنی ذہن میں دَر آئی ہے

کام آئے نبیؐ کے نقشِ قدم
زندگی جب بھی لڑکھڑائی ہے

ہے معطر مشام جاں اُس سے
وہ جو خوشبو حرا سے آئی ہے

اور ہے کون مصطفیٰؐ کے سوا
جس کی اللہ تک رسائی ہے

آپؐ نے دشمنوں کی بستی میں
دوستی کی فضا بنائی ہے

آپؐ نے ظلم کی زمینوں میں
فصلِ انصاف کی اُگائی ہے

شرک کا جس میں شائبہ بھی نہیں
آپؐ کی ذات وہ اِکائی ہے

جتنی توصیف اُن کی لکھی گئی
صرف ایک حرفِ ابتدائی ہے

دشمنوں کو معاف کر دینا
دوستو! ظرفِ مصطفائی ہے

دوستو! اُسوۂ نبیؐ پہ چلو
ہم پہ الزامِ بے وفائی ہے

حشر تک آ گیا ہوں میں سرکارؐ
آپ کے ہاتھ رہنمائی ہے

مصطفیٰؐ کی وہ ذات ہے جس نے
بات بگڑی ہوئی بنائی ہے

روضۂ مصطفیٰؐ کو دیکھ لیا
آج جنت سمجھ میں آئی ہے

وہ خدا تو نہیں خدا کی قسم
دسترس میں مگر خدائی ہے

کیوں نہ اعجازؔ نعت ہم لکھیں
نعت تو شغلِ کبریائی ہے