کوئی غنچہ دہن آیا، کوئی سیمیں بدن آیا

کوئی غنچہ دہن آیا، کوئی سیمیں بدن آیا
مگر وہ کون ہے بن کر جو خود جانِ چمن آیا

ملی راحت کچھ ایسی گنبدِ خضرأ کے سائے میں
نہ اپنے گھر کی یاد آئی نہ یاد اپنا وطن آیا

رسولؐ اللہ نے ہر آدمی کی رہنمائی کی
جو رہزن تھے انہیں بھی رہنمائی کا چلن آیا

حرا میں آج تک خوشبو بسی ہے جس کی سانسوں کی
وہی اُمی لقب لے کر نصابِ علم و فن آیا

جنوں کی کوئی گنجائش نہیں بزمِ رسالت میں
یہاں تو کام جب آیا خرد کا ہی چلن آیا

سمجھ سکتا نہیں وہ شخص تعلیمِ محمدؐ کو
جو دنیا میں برائے لذّتِ کام و دہن آیا

کوئی تاریخ سے پوچھے جہالت کے زمانے میں
پئے تہذیب لے کر کون ادب کا پیرہن آیا

بتایا مصطفیٰؐ نے اجتماعی زندگی کیا ہے
جو صحرا ساز تھے اُن کو شعورِ انجمن آیا

سنایا نغمۂ صلِّ علیٰ مل کر عنادِل نے
گلِ مدحِ رسالت جب سرِ شاخِ سخن آیا

بہت اعجازؔ تم کو ناز ہے معجز بیانی پر
بتاؤ نعت میں بھی کام کچھ رنگِ سخن آیا