اُس پہ صدقے چرخِ نیلی فام ہے

اُس پہ صدقے چرخِ نیلی فام ہے
وہ زمیں جس کا مدینہ نام ہے

دہر میں جس شے کا راحت نام ہے
کوچۂ خیر البشرؐ میں عام ہے

ذکرِ سرکار دو عالمؐ عام ہے
پیروی لیکن برائے نام ہے

جانبِ طیبہ سفر تو کیجیے
کامیابی کی سند ہر گام ہے

ہے جو قرآنِ مبیں کے سائے میں
سرورؐ دیں کا وہی پیغام ہے

روشنی صورت ہے سیرت روشنی
روشنی آغاز ہے انجام ہے

پھر بھٹکنے کا کوئی امکاں نہیں
دوستو! منزل اگر اِسلام ہے

اتباعِ سرورِؐ دیں کے بغیر
زندگی ناکام تھی ناکام ہے

پاس ہے سرمایۂ خلقِ نبیؐ
تیر کا تلوار کا کیا کام ہے

نام ہے اعجازؔ رحمانی مرا
مدحتِ سرکار میرا کام ہے