آیا جو کوششوں سے رسالت مآبؐ کی

آیا جو کوششوں سے رسالت مآبؐ کی
میں بات کر رہا ہوں اُسی انقلاب کی

صدیاں ہوئیں کھلی تھی گرہ اُس نقاب کی
اب تک لرز رہی ہے کرن آفتاب کی

اللہ کے رسولؐ سے ہے انسیت جنہیں
وہ لوگ فکر کرتے ہیں روزِ حساب کی

سجدہ کسی بھی در پہ نہ کیجیے بجزِ خدا
یہ پیروی نہیں ہے رسالت مآبؐ کی

طالب ہوں میں اسی سے اُجالوں کا، روز وشب
نقشِ قدم ہیں جس کے دلیل آفتاب کی

پیاسو! بجھاؤ پیاس جھجکتے ہو کس لیے
کوئی کمی نہیں ہے سمندر میں آب کی

دُھل جائے میرا نامۂ اعمال حشر میں
پڑ جائے اِک نظر جو رسالت مآبؐ کی

آنکھیں کھلیں تو روضۂ اقدس ہو سامنے
تعبیر بعدِ خواب ہی مل جائے خواب کی

اعجازؔ اُس کے حکم پر چلتے رہو سدا
تفسیر جس کی ذات ہے اُم الکتاب کی