ہوتے تو ہیں سیرت کے ہر اِک شہر میں جلسے

ہوتے تو ہیں سیرت کے ہر اِک شہر میں جلسے
ہیں دُور بہت دُور مگر لوگ عمل سے

سرکارؐ کی رحمت تو ابد تک ہے ازل سے
خوشبو کبھی رُکتی ہی نہیں اپنے عمل سے

جو ذہن بھی تعلیمِ نبیؐ سے ہیں منّور
ہر حال میں محفوظ وہ رہتے ہیں خلل سے

یہ حوصلہ بخشا ہے مجھے سرورِؐ دیں نے
میں زیست سے مایوس نہ خائف ہوں اَجل سے

یاد شہہِؐ کونین سے دل ہے مرا روشن
جیسے کسی تالاب کی زینت ہو کنول سے

کونین کی ہر شے اُسے ہو جائے گی حاصل
جو حبِّ نبیؐ مانگ لے قسّامِ اَزل سے

طیبہ کی بہاروں سے نہیں جس کا تعلق
محروم رہے گا وہ شجر پھول سے، پھل سے

محفوظ تھا، محفوظ ہے، محفوظ رہے گا
ہر دور میں قرآنِ مبیں ردّ و بدل سے

حالانکہ تھے محبوبِ خدا سرورِ عالمؐ
نسبت انہیں اعجازؔ نہ تھی شیش محل سے