کس واسطے بھیجا تھا محمدؐ کو خدا نے

کس واسطے بھیجا تھا محمدؐ کو خدا نے
اِنسان کو شائستہ آداب بنانے

توحید کا پیغام زمانے کو سنانے
آپؐ آئے تھے انسان کو خالق سے ملانے

تفریق کے طوفان سے کشتی کو بچانے
وہ آئے تھے قطرے کو سمندر سے ملانے

روشن ہیں اُسی نام سے ذہنوں کے دریچے
افکار کے در کھول دیے جس کی صدا نے

تخریب کا رُخ ہو گیا تعمیر کی جانب
وہ کام کیا سرورِ عالمؐ کی دعا نے

ایمان کی خوشبو سے معطر ہیں فضائیں
وہ پھول کھلائے ہیں مدینے کی ہوا نے

آئے یہ قدم کس کے سرِ گلشنِ ہستی
پھولوں نے نچھاور کیے خوشبو کے خزانے

ہر دور میں اِنسان کی عظمت کو بڑھایا
تہذیب کے آنچل نے، تمدن کی قبا نے

وہ بار اٹھایا جو فرشتوں سے نہ اٹّھا
مضبوط بہت تھے مرے سرکارؐ کے شانے

اعجازؔ یہ اعجاز ہے ذکر شہہِؐ دیں کا
راتیں بھی سہانی ہیں مرے دن بھی سہانے