جس دن سے عام خلقِ رسولؐ خدا ہوا

جس دن سے عام خلقِ رسولؐ خدا ہوا
پھولوں سے آدمی کا ہے دامن بھرا ہوا

محروم ہے جو دولتِ حبِّ رسول سے
وہ دل بھی اِک چراغ ہے لیکن بجھا ہوا

یثرب کی سرزمیں کو مدینہ بنا دیا
مکّے میں انقلاب اِک ایسا بپا ہوا

بدر و اُحد میں دیکھ لو، طائف میں دیکھ لو
قرآن دیکھنا ہو اگر بولتا ہوا

ذاتِ رسولِؐ پاک ہے رحمت کا وہ شجر
ہر آدمی ہے سائے میں جس کے کھڑا ہوا

کیا کیا ہوئے ہیں آپؐ کے قدموں سے فیضیاب
عرشِ بریں ہوا، کبھی غارِ حرا ہوا

خوشبو سے جس کی بزمِ دو عالم ہے عطر بیز
رحمت کا وہ گلاب ہے اَب تک کھلا ہوا

مجھ کو یقیں ہے وہ ملیں گے مجھے ضرور
محشر تک آگیا ہوں انہیں ڈھونڈتا ہوا

شرمندہ ہوں میں اپنے گناہوں سے حشر میں
میں کیا جواب دوں گا اگر سامنا ہوا

وہ اُسوۂ رسولؐ سے ہوتے ہیں فیضیاب
رکھتے ہیں ذہن کا جو دریچہ کھلا ہوا

تعلیمِ مصطفیٰؐ کا یہ اعجازؔ دیکھیے
ظلمت نصیب ذہن چراغ آشنا ہوا