جب مشیت نے کھلائے گلشنِ طیبہ کے پھول

جب مشیت نے کھلائے گلشنِ طیبہ کے پھول
خار تھے جتنے وہ سارے بن گئے صحرا کے پھول

کون تحفہ لے کے آیا ہے صلوٰۃ و صوم کا
عرش سے کس نے زمیں پہ رکھ دیے ہیں لاکے پھول

پیرویٔ مصطفیٰؐ نے کر دیا ہے معتبر
دیکھیے خلقِ شہہِؐ کونین کے اپنا کے پھول

آپؐ پر قربان کردوں دونوں عالم کی بہار
آپؐ کے قدموں میں لاکر ڈال دوں دُنیا کے پھول

لے لیا خود بڑھ کے گردابِ بلا نے گود میں
اہلِ ایماں کے سفینے بن گئے دریا کے پھول

گلشنِ فردوس تک جانا کوئی مشکل نہیں
رہنمائی کر رہے ہیں اُن کے نقشِ پا کے پھول

شبنمِ رحمت اگر ہو جائے دم بھر کو جدا
گلشنِ ہستی میں رہ جائیں ابھی مرجھا کے پھول

میں تو دربارِ رسالتؐ تک ابھی پہنچا نہیں
پیش کر دے میری جانب سے کوئی لے جاکے پھول

نعت میں نے پیش کی اعجازؔ جب سرکارؐ کی
کوئی دامن پر مرے رکھنے لگا لا لا کے پھول