اُتنا ہی بلند اُس کا معیار فضیلت ہے

اُتنا ہی بلند اُس کا معیار فضیلت ہے
سرکارؐ مدینہ سے جتنی جسے نسبت ہے

سرکار تعاقب میں خورشیدِ قیامت ہے
سائے کی ضرورت ہے سائے کی ضرورت ہے

طیبہ سے اگر دُوری کوتاہیٔ قسمت ہے
بے سود ہے پھر شکوہ، بیکار شکایت ہے

وہ کیا تھے، وہ کیسے تھے قرآن بتائے گا
قرآن ہی صورت ہے قرآن ہی سیرت ہے

اِنساں کو چھڑایا ہے اِنساں کی غلامی سے
یہ دولتِ آزادی آقاؐ کی بدولت ہے

واعظ تری جنت کا طالب میں ازل سے ہوں
لیکن مری نظروں میں اِک اور بھی جنت ہے

اُس شخص کی عظمت سے انکار نہیں ممکن
قرآن بکف ہے جو پابندِ شریعت ہے

سمجھائیں بلالؓ آکر، بتلائیں اویسؓ آکر
کیا کرب میں راحت ہے کیا درد میں لذت ہے

احسان ہے یہ مجھ پر سرکارِؐ دو عالم کا
اِک ناقص و ناکارہ آسودۂ رحمت ہے

اِک عرصۂ محشر ہے اِس وقت یہ دنیا بھی
ہر صبح قیامت ہے ہر شام قیامت ہے

سرمایۂ مومن ہے اعجازؔ بہرِ عالم
اک فرض کی دنیا ہے اِک عالمِ سنت ہے