ہر ایک شے نظر آتی ہے کس قدر روشن

ہر ایک شے نظر آتی ہے کس قدر روشن
نبیؐ کے ذکر سے رہتا ہے میرا گھر روشن

تجلّیات کا مرکز ہے روضۂ اَقدس
ضیائے گنبدِ خضرا سے بام و در روشن

یہ سب حضورؐ کے بخشے ہوئے اُجالے ہیں
محبتوں کی ہیں شمعیں نگر نگر روشن

اندھیرے پاس نہ آئیں گے پھر قیامت تک
دِیا عمل کا مسلسل رہا اگر روشن

اَجل نے آکے بجھا تو دیا چراغِ حیات
چراغ حبِّ نبیؐ کا رہا مگر روشن

یہ کون زینتِ افلاک ہے شبِ اسریٰ
یہ کہکشاں ہے کہ ہے گردِ رہگزر روشن

زمیں پہ نور کے دریا بہا دیے اُس نے
کہ تھی جو نور کی قندیل عرش پر روشن

چراغ ذکرِ نبیؐ کا کبھی نہیں بجھتا
دیا تو شام سے رہتا ہے تا سحر روشن

زباں پہ ذکرِ حبیبِ خدا رہے اعجازؔ
یہی چراغ رہے دل میں عمر بھر روشن