آپ کے ہیں وہ شاہِ اُمم آپؐ کے

آپ کے ہیں وہ شاہِ اُمم آپؐ کے
ہیں جو رُتبے خدا کی قسم آپؐ کے

کس سے اَوصاف ہوں گے رقم آپؐ کے
جب ثنا خواں ہیں لوح و قلم آپؐ کے

ذکر طائف کا ہو یا ہو معراج کا
کارنامے ہیں سارے اہم آپؐ کے

جب میں تنہائی میں سوچتا ہوں کبھی
یاد آتے ہیں کیا کیا کرم آپؐ کے

آپؐ کی زیست ہر رُخ سے ہے آئینہ
عکس جتنے ہیں سب محترم آپؐ کے

نامرادی سے کہہ دو نہ آئے ادھر
میں تصّور میں ہوں شامِ غم آپؐ کے

عافیت میں ہے مجھ سا گناہ گار بھی
ہو رہے ہیں مسلسل کرم آپؐ کے

غازۂ رُوئے انسانیت خاک پا
نقشِ پا بھی تو ہیں محترم آپؐ کے

ہو گیا اُن میں شامل اِک اعجازؔ بھی
ہیں جو ممدوح شاہِ اُمم آپؐ کے