اگر وہاں مری قسمت کا آب و دانہ ہے

اگر وہاں مری قسمت کا آب و دانہ ہے
تو ایک دن مجھے طیبہ ضرور جانا ہے

قدم بھلائی کی جانب ہمیں اٹھانا ہے
ہر اک برائی کی دیوار کو گرانا ہے

ہمارے سامنے سیرت ہے سرورِؐ دیں کی
ہمیں چراغ بجھانا نہیں جلانا ہے

درود پڑھ کے اٹھائے ہیں میں نے ہاتھ اپنے
دعا کو بابِ اثر تک ضرور جانا ہے

محیط آپؐ کی ہستی ہے سارے عالم پر
ہر اِک زمانہ حضور آپ کا زمانہ ہے

حضورؐ ہی نے بتائے ہیں امن کے آداب
بتایا یہ بھی کہ تلوار کب اٹھانا ہے

نبی کے نقشِ قدم پر سفر ضروری ہے
اگر مقام ہمیں دہر میں بنانا ہے

حضورؐ ہی کا کرم ہے گناہگاروں پر
سروں پہ دیکھیے رحمت کا شامیانہ ہے

رسولِ پاکؐ کی لازم ہے پیروی اعجازؔ
جو ہنس کے بارِ غمِ زندگی اٹھانا ہے