ظلمتیں چھوڑ کر روشنی کی طرف

ظلمتیں چھوڑ کر روشنی کی طرف
آؤ چلتے ہیں شہرِ نبیؐ کی طرف

حشر میں کون دیکھے کسی کی طرف
سب کی نظریں ہیں سرکارؐ ہی کی طرف

لے کے پیغام رب جہل کے دور میں
آدمی آگیا آدمی کی طرف

نفرتوں کی فضا پیار میں ڈھل گئی
دشمنی چل پڑی دوستی کی طرف

حادثے منہ مرا دیکھتے رہ گئے
چل دیا میں دیارِ نبیؐ کی طرف

اُن کی معراج کی بس یہ تعریف ہے
روشنی کا سفر روشنی کی طرف

اُس پہ اللہ کی کیوں نہ ہوں رحمتیں
جو بلائے سلامت رَوی کی طرف

تھا بظاہر خطاب آپؐ کا قوم سے
تھے مخاطب مگر ہر صدی کی طرف

شغلِ اعجازؔ ہے مدحتِ مصطفیٰؐ
فکر مائل ہے نعتِ نبیؐ کی طرف