مظلوم کی گردن پہ تلوار تھی قاتل کی

مظلوم کی گردن پہ تلوار تھی قاتل کی
سرکارِ دو عالمؐ نے آسان یہ مشکل کی

سورج کی طرح روشن ہیں نقشِ قدم جس کے
تمثیل کہاں ممکن اُس ہادیٔ کامل کی

دیکھو تو عمل کر کے اخلاق محمدؐ پر
گر جائے گی ہاتھوں سے شمشیر مقابل کی

وہ جس نے محبت کی سرکارِ دو عالم سے
اللہ کی خوشنودی اُس شخص نے حاصل کی

اُٹھنے دو قدم میرے اِک بار سوئے طیبہ
ہو جائے گی خود ٹکڑے زنجیر مسائل کی

اِک گام جہاں چلنا جبریلؑ کو مشکل تھا
اِک ایسی شبِ اَسریٰ، سر آپؐ نے منزل کی

پتوار شریعت کی رکھتے ہیں جو ہاتھوں میں
طوفاں کو بناتے ہیں تصویر وہ ساحل کی

لاریب یہ صدقہ ہے تعلیمِ محمدؐ کا
دنیا میں سراَفرازی اِنساں نے جو حاصل کی

اعجازؔ سلامت ہے ذکرِ شہہِؐ والا سے
یہ رنگ مرے گھر کا گرمی مری محفل کی