ختم ہو سکتا نہیں نعتِ نبیؐ کا سلسلہ

ختم ہو سکتا نہیں نعتِ نبیؐ کا سلسلہ
حشر تک چلتا رہے گا روشنی کا سلسلہ

قابِ قوسین و دَنیٰ تک آدمی کا سلسلہ
روشنی سے مل گیا ہے روشنی کا سلسلہ

آج بھی اُن کے کرم سے مل رہی ہیں منزلیں
اِک تسلسل سے ہے جاری رہبری کا سلسلہ

دے دیے سرکارؐ نے اِنسان کو ایسے اُصول
آج تک قائم ہے جن سے بہتری کا سلسلہ

ساقیٔ تسنیم و کوثر کی نوازش کے نثار
تشنگی سے مل گیا دریا دِلی کا سلسلہ

دشتِ امکاں میں بھٹکتا پھر رہا تھا آدمی
مصطفیٰؐ نے رب سے جوڑا آدمی کا سلسلہ

اے رفیقو! سرحدِ شہرِ نبیؐ آنے تو دو
ختم ہو جائے گا خود دیوانگی کا سلسلہ

جادۂ حبِّ نبیؐ میں جان دے کر دیکھ لو
موت سے رکتا نہیں ہے زندگی کا سلسلہ

کام آتی ہے بشر کے آپؐ کی تعلیم ہی
غم کا کوئی سلسلہ ہو یا خوشی کا سلسلہ

نعمۂ نعتِ نبیؐ اعجازؔ میرے لب پہ ہے
ختم ہو سکتا نہیں اب شاعری کا سلسلہ