نورِ محمدیؐ جو ازل سے سفر میں ہے

نورِ محمدیؐ جو ازل سے سفر میں ہے
یہ ساری کائنات اُسی کے اثر میں ہے

اِک روشنی سمائی ہوئی بام و در میں ہے
جس دن سے ذکرِ صلِّ علیٰ میرے گھر میں ہے

وہ جس پہ ثبت نقشِ قدم ہیں حضورؐ کے
اِنسان کامیاب اُسی رہگزر میں ہے

روشن جہاں میں اِس لیے محنت کا ہے چراغ
محنت شریک اُسوۂ خیرالبشرؐ میں ہے

بدلہ کسی سے لینا نہیں اُسوۂ رسولؐ
گر ہے کوئی کمال تو وہ درگزر میں ہے

چلتا ہے جو بھی نقشِ قدم پر رسولؐ کے
اُس آدمی کے ساتھ اُجالا سفر میں ہے

سائے میں جس کے خون کے پیاسے بھی سوگئے
رحمت کا وہ شجر بھی ہماری نظر میں ہے

یہ بھی کرم ہے یادِ رسولؐ اَنام کا
موتی ہے جو بھی اشک مری چشمِ تر میں ہے

اعجازؔ یہ بھی مہرِ رسالتؐ کا ہے کرم
یہ اتنی روشنی، جو چراغِ ہنر میں ہے