ہر ایک عہد بفیضِ شہِؐ عرب روشن

ہر ایک عہد بفیضِ شہِؐ عرب روشن
ہمارا دِن ہے منور ہماری شب روشن

یہ بزم سرورِؐ دیں ہے ادب کا ہوش رہے
یہاں چراغ بھی ہوتے ہیں با اَدب روشن

دُرود پڑھ کے جو عزمِ سفر کیا میں نے
قدم قدم پہ ملی ہے رہِ طلب روشن

دلوں کو دھو دیا ذکرِ رسولِ اکرمؐ نے
بجھے تھے جتنے دیے ہو گئے وہ سب روشن

وہ تیرگی میں بھی تاریک ہو نہیں سکتے
جو آئینے ہیں بنام حبیبِؐ رب روشن

یہ رنگ و نور بھی حسنِ نبیؐ کا صدقہ ہے
چراغ ہوتا نہیں کوئی بے سبب روشن

اُسی کے نور سے روشن ہیں ساری قندیلیں
وہ آفتاب ہوا تھا حرا میں کب روشن

بصد خلوص جو ذکرِ رسولؐ کرتے ہیں
ضرور ہوں گے سرِ حشر اُن کے لب روشن

یہ سب حضورؐ کی مدحت کا ہے کمال اعجازؔ
نہ میرا نام تھا روشن نہ تھا نسب روشن