اپنے ہونے کا یقیں ہے نہ گماں ہے ہم کو

اپنے ہونے کا یقیں ہے نہ گماں ہے ہم کو
اِتنی فرصت ہی مدینے میں کہاں ہے ہم کو

تو نے جی بھر کے مدینے میں ٹھہرنے نہ دیا
بس یہی تجھ سے گلہ عمرِ رواں ہے ہم کو

عافیت کا کوئی گوشہ کہیں عالم میں نہیں
سایۂ گنبدِ خضرا میں اماں ہے ہم کو

حکمِ سرکارؐ ہے اللہ سے مانگو جنت
اس لیے خواہشِ گلزارِ جناں ہے ہم کو

کتنے غم پال لیے چھوڑ کے دربارِ نبیؐ
فکر ہی فکر سرِ قریۂ جاں ہے ہم کو

چھوڑ کر گوشۂ دامانِ رسول اکرمؐ
جامۂ اطلس و کمخواب گراں ہے ہم کو

سوئے مسجد قدم اٹھتے ہیں نہ پڑھتے ہیں نماز
حکمِ سرکارؐ کا اب پاس کہاں ہے ہم کو

کر لیا چاند کو تسخیر تو ہم نے اعجازؔ
جادۂ حق کا سفر اب بھی گراں ہے ہم کو