بات ہونٹوں پہ ہے آج اُس رات کی

بات ہونٹوں پہ ہے آج اُس رات کی
جس میں بندے نے رب سے ملاقات کی

احتراماً رُکا وقت جس کے لیے
کم ہے تعریف جتنی ہو اُس ذات کی

بے زبانوں کو اہلِ زباں کر دیا
کر کے ترویج اپنے خیالات کی

سوئے خیرالبشرؐ رُوئے تاریخ تھا
بات جب بھی چلی انقلابات کی

بے ادب زندگی کو ادب دے دیا
عمر بھر علم و دانش کی خیرات کی

ظلم سہتے رہے مسکراتے رہے
اِس طرح دشمنوں کی مدارات کی

بات نکلی لبوں سے جو سرکارؐ کے
رب نے تائید کی ہے اُسی بات کی

اُس کی اُمت میں اور اِس قدر تفرقے
ہے جو بنیاد عدل و مساوات کی

جس نے اعجازؔ شق چاند کو کیا
حد نہیں کوئی اُس کے کمالات کی