مرے دل کی ہر اک دھڑکن صبا رفتار ہوتی ہے

مرے دل کی ہر اک دھڑکن صبا رفتار ہوتی ہے
مدینے کی تمنا دل میں جب بیدار ہوتی ہے

حرم سے تا دیارِ مصطفیٰؐ جلوے ہی جلوے ہیں
نظر ہر گام پر آسودۂ انوار ہوتی ہے

چراغِ حبِ سرکارِ دو عالم کیجیے روشن
اندھیرا گھر میں ہو تو روشنی دَرکار ہوتی ہے

ادب کا ہاتھ سے دامن نہ چھوٹے زائرِ طیبہ
محبت میں رواداری بہت دشوار ہوتی ہے

بتایا سرورِ دیں نے برائے امن، عالم میں
کہیں اخلاق ہوتا ہے کہیں تلوار ہوتی ہے

گزر جاتا ہے ہر مشکل سے دیوانہ شہہِؐ دیں کا
جنوں کی راہ میں حائل کہیں دیوار ہوتی ہے

درِ خیرالوریٰؐ پر لے چلو ایسے مریضوں کو
بدن کے ساتھ جن کی روح بھی بیمار ہوتی ہے

یہ گلزارِ مدینہ ہے خزاں سے کیا غرض اِس کو
یہاں سے فصلِ گل جانے کو کب تیار ہوتی ہے

رِسالت نقطۂ توحید پر ہے دائم و قائم
کہ اپنے دائرے میں گردشِ پیکار ہوتی ہے

غبارِ دشتِ طیبہ ہے ہمارے واسطے غازہ
یہاں کی دھوپ بھی تو سایۂ دیوار ہوتی ہے

اُسے محسوس کر سکتے ہیں اعجازؔ اہلِ ایماں ہی
نبیؐ کے ذکر سے خوشبو سی اِک بیدار ہوتی ہے