شاہِ اُمم کی ایک نظر نے کس کس پر احسان کیا

شاہِ اُمم کی ایک نظر نے کس کس پر احسان کیا
ذرّے کو خورشید بنایا قطرے کو طوفان کیا

ذہن کو مثبت سوچ عطا کی انساں کو ذیشان کیا
بندوں کو خالق سے ملایا مشکل کو آسان کیا

منزل منزل روشن کر دیں حسنِ عمل کی قندیلیں
جو رستا دُشوار بہت تھا اُس کو بھی آسان کیا

بعد میں لوگوں کوبتلایا ایک خدا کے بارے میں
پہلے اپنی ذات کی بابت آقا نے اعلان کیا

علم کا وہ لافانی سورج اس پہ درود اور اس پہ سلام
جس نے سچے حرف سکھائے قاری کو قرآن کیا

وحیٔ خدا ہیں جس کی باتیں قرآں کی تفسیر عمل
جس نے اُس کی بات نہ مانی اپنا ہی نقصان کیا

بدر و اُحد کی منزل ہو یا جشنِ فتحِ مکہ ہو
عزم سے اور ایثار سے اپنے، سر ہر اِک میدان کیا

اُس کی صورت اُس کی سیرت دونوں ہی لافانی ہیں
علم کا جس نے شہر بسایا جہل کا گھر ویران کیا

اس کی نوازش بے پایاں ہے لوگو جس کی رحمت نے
صحرا کو گلزار بنایا، دھوپ کو سائبان کیا

انساں کی معراج ہے اس کے نقشِ قدم سے وابستہ
جس نے اپنے درویشوں کو دنیا کا سلطان کیا

سچ کی جس نے جوت جگائی ظلم و ستم کی آندھی میں
پتھر کھائے، لب نہ ہلائے، اپنا لہو قربان کیا

اعجازؔ اپنی فردِ عمل تو، صرف خطا پر مبنی تھی
نعتِ رسول اکرمؐ لکھ کر، بخشش کا سامان کیا