روضہ مرے رسولؐ کا گھر روشنی کا ہے

روضہ مرے رسولؐ کا گھر روشنی کا ہے
دیوار روشنی کی ہے در روشنی کا ہے

دیکھا تھا ایک روز مدینے کو خواب میں
اب تک نگاہ و دل پہ اثر روشنی کا ہے

مرکز تجلیوں کا ہے روضہ رسولؐ کا
طیبہ ہے جس کا نام نگر روشنی کا ہے

آغاز اِس سفر کا ہے ذاتِ محمدیؐ
جاری جو یہ ازل سے سفر روشنی کا ہے

پہنچے گا خود بخود ہی سرِ جادۂ رسولؐ
انسان کو شعور اگر روشنی کا ہے

جس میں ہے عشقِ سرورِ کونینؐ ہے وہ دل
دھڑکن ہے کائنات کی گھر روشنی کا ہے

ہر گوشۂ حیات رسولِؐ اَنام کا
تاریک رہگزر میں سفر روشنی کا ہے

ممکن ہے لوگ اور کوئی نام دیں اسے
ذہنوں پہ سب کے راج مگر روشنی کا ہے

اعجازؔ کون بزم جہاں میں ہے جلوہ گر
ہر لب پہ ذکر شام و سحر روشنی کا ہے