رنگِ بے چہرگی عذاب نہ تھا

رنگِ بے چہرگی عذاب نہ تھا
جب تک آئینہ دستیاب نہ تھا

جب تلک وہ ملا نہ تھا مجھ سے
میری سوچوں میں انقلاب نہ تھا

اور سب کچھ تھا چارہ گر کے پاس
میرے زخموں کا سدباب نہ تھا

وہ بڑے ہی سکون کے دن تھے
جب تک آنکھوں میں کوئی خواب نہ تھا

صرف کانٹے مرے نصیب میں تھے
شاخ پر ایک بھی گلاب نہ تھا

کوئی منہ پھیر کر گزر جاتا
حال اتنا مرا خراب نہ تھا

زخم دیتا تھا کس محبت سے
اس ستمگر کا بھی جواب نہ تھا

جب رواں آنسوؤں کا تھا دریا
دور تک کوئی بھی سراب نہ تھا

تشنگی تو بلا کی تھی اعجازؔ
لب پہ لیکن سوال آب نہ تھا