وہ مجھ سے شناسا نہ ہو ایسا بھی نہیں تھا

وہ مجھ سے شناسا نہ ہو ایسا بھی نہیں تھا
ملنے کی طرح وہ کبھی ملتا بھی نہیں تھا

رستے میں کہیں کوئی جزیرہ بھی نہیں تھا
سوچوں کے سمندر کا کنارا بھی نہیں تھا

کیا اس کے تعلق کا حوالہ کوئی دیتا
وہ شخص کسی کا نہیں اپنا بھی نہیں تھا

خورشید کی دستک نے مری نیند اُڑا دی
میں ہجر زدہ ٹھیک سے سویا بھی نہیں تھا

وہ چھوڑ گیا ساتھ ُاسی موڑ پہ میرا
جس موڑ سے آگے کوئی رستا بھی نہیں تھا

آنے نہ دیا لب پہ کبھی حرف تمنا
یہ اُس کی محبت کا تقاضا بھی نہیں تھا

ہر سمت سے کھلنے لگے نفرت کے دریچے
میں نے تو ابھی گھر کو سجایا بھی نہیں تھا

تھے دھوپ کے مارے ہوئے صحرا کے مسافر
سر پر کسی دیوار کا سایا بھی نہیں تھا

سر اپنا ہتھیلی پہ لیے لوگ کھڑے تھے
اعجازؔ سرِ دار میں تنہا بھی نہیں تھا