شہر تک تو آپہنچے ہم دیار وحشت سے

شہر تک تو آپہنچے ہم دیار وحشت سے
اب ہمیں گزرنا ہے آخری قیامت سے

فصلِ سنگ باری میں آج وہ بھی شامل ہیں
آئینہ مزاجوں کو دیکھتا ہوں حیرت سے

بات مان کر دل کی آگیا ہوں محفل میں
کیا میں بیٹھ سکتا ہوں آپ کی اجازت سے

مشکل شناسائی آئینے نے حل کردی
آشنا نہیں ہوتے لوگ اپنی صورت سے

عرصۂ تمنا میں لوگ کتنے ہیں مجبور
عشق اپنی فطرت سے حسن اپنی عادت سے

آئینہ بدوش آخر نقشِ پا یہ کس کے ہیں
آسماں بھی تکتا ہے اب زمیں کو حیرت سے

میں زمین سے اپنی رابطے میں رہتا ہوں
رزق مجھ کو ملتا ہے آسمانِ شہرت سے

شامِ ہجر پلکوں پر کہکشاں ہے اشکوں کی
یہ چراغ جلتے ہیں خون کی حرارت سے

ایک عمر کی کاوش رائیگاں گئی اعجازؔ
جنگ کر نہیں سکتا کوئی اپنی قسمت سے