روشنی نہیں ملتی عارضی ہیولوں سے

روشنی نہیں ملتی عارضی ہیولوں سے
منحرف نہیں ہوتے ہم کبھی اصولوں سے

فصلِ گل نہ راس آئی خون دینے والوں کو
زخم جتنے پائے ہیں سب ملے ہیں پھولوں سے

شہر کی ہوائیں بھی احترام کرتی ہیں
جب سے اہل وحشت کا ربط ہے بگولوں سے

اپنی اپنی سوچوں کے لوگ دائروں میں ہے
منسلک کتابیں ہیں آج بھی مقولوں سے

دور پنگھٹوں سے ہیں چاند سے حسیں چہرے
اب کے رُت ہے ساون کی بے نیاز جھولوں سے

آج تک عبارت ہے اپنا گلشنِ ہستی
صرف چند کانٹوں سے صرف چند پھولوں سے

تن برہنہ بچوں کو کیا کتاب سے مطلب
پیٹ تو نہیں بھرتا کاغذی اصولوں سے

پاس اہل ثروت کے وقت ہی نہیں شاید
کوئی بھی نہیں ملتا آکے دل ملولوں سے

فکر کے چراغوں کو روشنی ملی اعجازؔ
سلسلے اُجالوں کے جب چلے رسولوں سے