مٹ گیا غم ترے تکلم سے

مٹ گیا غم ترے تکلم سے
لب ہوئے آشنا تبسم سے

کس کے نقش قدم ہیں راہوں میں
جگمگاتے ہیں ماہ و انجم سے

ہے زمانہ بڑا زمانہ شناس
کبھی مجھ سے گلہ، کبھی تم سے

ناخدا بھی ملا تو ایسا ملا
آشنا جو نہیں تلاطم سے

اس نے آکر مزاج پوچھ لیا
ہم تو بیٹھے ہوئے تھے گم صم سے

ناخدا نے ڈبو دیا اُن کو
وہ کہ جو بچ گئے تلاطم سے

زندگی حادثوں کی زد میں ہے
کوئی کیسے بچے تصادم سے

!سایۂ گل میں بیٹھنے والو
گفتگو ہوگی دار پر تم سے

میں غزل کا اسیر ہوں اعجازؔ
شعر پڑھتا ہوں میں ترنم سے