رات میں کس کی بارگاہ میں تھا

رات میں کس کی بارگاہ میں تھا
سارا عالم مری نگاہ میں تھا

بند تھا مجھ پہ اُس کا دروازہ
وہ مکاں جس کی میں پناہ میں تھا

جل گیا تھا جو اپنے سائے سے
ایک ایسا شجر بھی راہ میں تھا

میں کوئی نام اُس کو دے نہ سکا
ایک پیغام اُس نگاہ میں تھا

سنگ تھے مفلسوں کی قسمت میں
آئینہ دستِ کج کلاہ میں تھا

لوگ افلاس کے بھنور میں تھے
ڈھیر دولت کا خانقاہ میں تھا

کیا ضرورت کسی چراغ کی تھی
مرا نقش قدم تو راہ میں تھا

اُس کی تلوار بھی تھی ٹوٹی ہوئی
میں بھی ہاری ہوئی سپاہ میں تھا

پارسائی عذاب تھی اعجازؔ
میں ملوث اُسی گناہ میں تھا