اے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے

اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے
مگر وجود کا میرے بھی اعتراف کرے

اُسے تو اپنی بھی صورت نظر نہیں آتی
وہ اپنے شیشۂ دل کی تو گرد صاف کرے

کیا جو اس نے میرے ساتھ نامناسب تھا
معاف کردیا میں نے خدا معاف کرے

وہ شخص جو کسی مسجد میں جا نہیں سکتا
تو اپنے گھر میں ہی کچھ روز اعتکاف کرے

وہ آدمی تو نہیں ہے سیاہ پتھر ہے
جو چاہتا ہے کہ دنیا مرا طواف کرے

وہ کوہکن ہے نہ ہے اُس کے ہاتھ میں تیشہ
مگر زبان سے جب چاہے وہ شگاف کرے

میں اُس کے سارے نقائص اسے بتا دوں گا
انا کا اپنے بدن سے جدا غلاف کرے

جسے بھی دیکھئے پتھر اُٹھائے پھرتا ہے
کوئی تو ہو مری وحشت کا اعتراف کرے

میں اُس کی بات کا کیسے یقیں کروں اعجازؔ
جو شخص اپنے اصولوں سے انحراف کرے