علاجِ سرگرانی کر رہا ہوں

علاجِ سرگرانی کر رہا ہوں
میں اپنا خون پانی کر رہا ہوں

ابھی صحرا سے میری دوستی ہے
جنوں کی میزبانی کر رہا ہوں

نہیں ہے بے سبب میری خموشی
میں خود پر مہربانی کر رہا ہوں

مجھے حیرت سے دنیا تک رہی ہے
بیاں خوابِ جوانی کر رہا ہوں

خزاں کے دور میں زخموں سے اپنے
گلوں کی ترجمانی کر رہا ہوں

ستاروں کی طرح روشن ہیں چھالے
زمیں کو آسمانی کر رہا ہوں

مقابل آئینہ رکھا ہوا ہے
مسلسل چہرہ خوانی کر رہا ہوں

کوئی تحریر تو لکھی نہیں ہے
گزارش میں زبانی کر رہا ہوں

یہی اعجازؔ ہے اعجاز میرا
سخن کو جاودانی کر رہا ہوں